تحریر و تحقیق : آغا زمانی
حوزہ نیوز ایجنسی | پہاڑوں کی خاموشی میں بھی تاریخ کی صدائیں گونجتی ہیں۔ کبھی کسی قلعے کی شکستہ دیواروں سے، کبھی کسی پرانی چھاؤنی کے ویران میدان سے، کبھی کسی بزرگ مجاہد کی لرزتی ہوئی آواز سے اور کبھی کسی ایسے خاندان کی یادوں سے جس نے اپنے پیاروں کو آزادی کی جدوجہد میں کھو دیا ہو۔
گلگت بلتستان کی تاریخ بھی ایسی ہی داستانوں سے عبارت ہے۔ یہ برف پوش پہاڑوں، دشوار گزار راستوں، قدیم تہذیبوں اور بہادر انسانوں کی سرزمین ہے۔ یہاں کی آزادی کسی ایک دن، ایک شہر یا چند معروف شخصیات کی جدوجہد کا نام نہیں، بلکہ مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی ایک طویل سیاسی اور عسکری تحریک کا نتیجہ ہے۔
یکم نومبر 1947ء گلگت کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن دن ہے۔ اسی روز گلگت میں ڈوگرا اقتدار کے خلاف بغاوت کامیاب ہوئی، ڈوگرا گورنر گرفتار ہوا اور ایک عبوری انتظامی ڈھانچہ قائم کیا گیا۔ لیکن بلتستان کی آزادی کی داستان اس سے مختلف اور زیادہ طویل ہے۔ یہاں جنگ کے کئی محاذ کھلے، سکردو کا طویل محاصرہ ہوا، مقامی مجاہدین نے غیر معمولی مشکلات کا سامنا کیا اور بالآخر 14 اگست 1948ء کو سکردو چھاؤنی میں محاصرے میں موجود ڈوگرا فوج نے ہتھیار ڈالے۔ بلتستان میں اسی تاریخی دن کو یومِ آزادی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
اس لیے گلگت اور بلتستان کی تاریخ کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھنا بھی درست نہیں اور ان کے مختلف تاریخی مراحل کو ایک ہی واقعے میں ضم کردینا بھی انصاف نہیں۔ دونوں کی اپنی تاریخ، اپنے مجاہدین، اپنے معرکے اور اپنی قربانیوں کی داستان ہے۔
معاہدۂ امرتسر سے پہلے: جموں، کشمیر اور ڈوگرا اقتدار کا پس منظر
گلگت بلتستان کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم انیسویں صدی کے سیاسی حالات کی طرف پلٹیں، جب برصغیر میں سکھ سلطنت، افغان اقتدار اور برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان طاقت کی کشمکش جاری تھی۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سکھ سلطنت نے 1819ء میں کشمیر کو افغان اقتدار سے حاصل کیا۔ اس زمانے میں کشمیر لاہور دربار کی سلطنت کے زیرِ اقتدار تھا، جبکہ جموں کے علاقے میں گلاب سنگھ کی حیثیت ایک بااثر مقامی راجا کی تھی۔ 1822ء میں گلاب سنگھ کو رنجیت سنگھ کی سرپرستی میں جموں کا راجا تسلیم کیا گیا۔
یوں جموں اور کشمیر کی انتظامی اور سیاسی حیثیت میں فرق ضرور موجود تھا، لیکن دونوں علاقے سکھ سلطنت کے وسیع سیاسی نظام سے وابستہ تھے۔ گلاب سنگھ جموں میں حکمرانی کرتے تھے، جبکہ کشمیر لاہور دربار کے زیرِ اقتدار تھا۔
1839ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد سکھ سلطنت کمزور ہوتی چلی گئی۔ اندرونی اقتدار کی کشمکش، سیاسی انتشار اور برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے بالآخر پہلی اینگلو سکھ جنگ کی راہ ہموار کی۔
1846ء میں سکھ سلطنت کو شکست ہوئی۔ 9 مارچ 1846ء کے معاہدۂ لاہور کے تحت سکھ دربار پر بھاری تاوانِ جنگ عائد کیا گیا۔ سکھ حکومت پوری رقم ادا کرنے کی پوزیشن میں نہ تھی، چنانچہ معاہدے کے تحت بعض پہاڑی علاقے برطانوی حکومت کے حوالے کیے گئے۔
اس کے بعد 16 مارچ 1846ء کو معاہدۂ امرتسر طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت برطانوی حکومت نے متعلقہ پہاڑی علاقے گلاب سنگھ کے حوالے کیے، جن کے عوض 75 لاکھ نانک شاہی روپے ادا کیے گئے۔ اس معاہدے نے گلاب سنگھ کی حکمرانی کو ایک وسیع ریاستی صورت دی اور ڈوگرا اقتدار کے تحت ریاستِ جموں و کشمیر کی نئی سیاسی تشکیل کا راستہ کھولا۔
یہاں ایک تاریخی نکتہ سمجھنا ضروری ہے: گلاب سنگھ 1846ء سے پہلے ہی جموں کے راجا تھے۔ معاہدۂ امرتسر کے بعد ان کی حکمرانی کا دائرہ وسیع ہوا۔ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ جموں اور کشمیر دونوں پہلی مرتبہ 1846ء میں وجود میں آئے؛ بلکہ اس معاہدے نے پہلے سے موجود سیاسی اور علاقائی اکائیوں کو ایک نئی ریاستی تشکیل میں مجتمع کیا۔
بلتستان: اپنی تہذیب، اپنی تاریخ اور لداخ سے تاریخی تعلق
بلتستان کی تاریخ کو صرف وادیٔ کشمیر کی تاریخ کا ایک باب سمجھنا اس خطے کی جداگانہ شناخت کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
بلتستان صدیوں تک اپنے مقامی حکمرانوں، شاہی خاندانوں، علاقائی ریاستوں اور مخصوص تہذیبی و معاشرتی نظام کے تحت آباد رہا۔ اس کے تاریخی تعلقات لداخ کے ساتھ بھی رہے، جبکہ یہاں کے مقامی حکمرانوں کی اپنی سیاسی حیثیت اور علاقائی اثر و رسوخ تھا۔
انیسویں صدی میں ڈوگرا فوجی مہمات کے نتیجے میں لداخ اور بلتستان کے علاقوں پر ڈوگرا اقتدار قائم ہوا۔ اس عمل نے بلتستان کی سیاسی خودمختاری کو متاثر کیا اور مقامی حکمرانوں کی حیثیت بدل دی۔
یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ معاہدۂ امرتسر کی عبارت میں صرف وادیٔ کشمیر کا نام نہیں بلکہ وسیع پہاڑی علاقوں اور ان کے ملحقہ علاقوں کا ذکر موجود ہے۔ لداخ اور بلتستان کے بارے میں قانونی و جغرافیائی تفصیلات کو سمجھنے کے لیے ڈوگرا فتوحات، ان کے انتظامی بندوبست اور معاہدے کی اصل عبارت کا الگ مطالعہ ضروری ہے۔ تاہم یہ تاریخی حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ بلتستان کی تہذیبی، جغرافیائی اور تاریخی شناخت وادیٔ کشمیر سے الگ اور منفرد رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بلتستان کی تاریخ بیان کرتے ہوئے اس کے مقامی حکمرانوں، لداخ سے تعلق، ڈوگرا فوجی مہمات اور مقامی آبادی پر مرتب ہونے والے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ڈوگرا دور: اقتدار کی تبدیلی اور مقامی آبادی کی محرومیاں
ڈوگرا اقتدار کے قیام کے بعد گلگت اور بلتستان کے مختلف علاقوں میں انتظامی نظام تبدیل ہوا۔ مقامی آبادی کو اقتدار کے فیصلہ سازی کے عمل میں محدود نمائندگی حاصل تھی۔ انتظامی اور عسکری اختیارات حکمران خاندان اور ان کے مقرر کردہ نمائندوں کے ہاتھ میں تھے۔
گلگت کی جغرافیائی اہمیت اپنی جگہ غیر معمولی تھی۔ یہ خطہ وسطی ایشیا، چین، کشمیر اور برصغیر کے درمیان ایک اہم گزرگاہ تھا۔ دوسری طرف بلتستان اپنے پہاڑی دروں، وادیوں، دریائی راستوں اور دفاعی محلِ وقوع کے باعث عسکری اہمیت رکھتا تھا۔
ان علاقوں پر کنٹرول صرف انتظامی مسئلہ نہیں تھا، بلکہ اس کا تعلق سرحدی سلامتی، تجارتی راستوں اور علاقائی طاقت کے توازن سے بھی تھا۔ مقامی لوگوں کے لیے یہ دور سیاسی اقتدار سے محرومی، انتظامی پابندیوں اور بیرونی حکمرانی کا دور تھا۔ وقت کے ساتھ آزادی اور خودمختاری کی خواہش نے جنم لیا، جو 1947ء کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں ایک منظم جدوجہد کی صورت اختیار کرگئی۔
یکم نومبر 1947ء: گلگت میں آزادی کی صبح
1947ء برصغیر کی تاریخ کا فیصلہ کن سال تھا۔ برطانوی اقتدار کے خاتمے اور تقسیمِ ہند کے بعد ریاستوں کے مستقبل کا سوال پیدا ہوا۔ اسی دوران گلگت کا سیاسی مستقبل بھی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار تھا۔
برطانوی حکومت نے یکم اگست 1947ء کو گلگت ایجنسی کا انتظام مہاراجہ کشمیر کو واپس کردیا۔ مہاراجہ نے بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کو گلگت کا گورنر مقرر کیا۔
لیکن حالات تیزی سے بدل رہے تھے۔ گلگت اسکاؤٹس کے مقامی اہلکاروں اور بعض فوجی افسران میں ڈوگرا انتظامیہ کے خلاف بے چینی موجود تھی۔ سیاسی حالات، مقامی احساسات اور بدلتے ہوئے عسکری منظرنامے نے بغاوت کی فضا پیدا کردی۔
31 اکتوبر اور یکم نومبر 1947ء کی درمیانی شب گلگت میں بغاوت کا آغاز ہوا۔ گلگت اسکاؤٹس نے ڈوگرا انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی اور گورنر بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کرلیا۔
یہ واقعہ گلگت کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ یکم نومبر کو گلگت میں ڈوگرا اقتدار کا خاتمہ ہوا اور ایک عبوری انتظامی ڈھانچہ قائم کیا گیا۔ اس عبوری حکومت کے حوالے سے راجہ شاہ رئیس خان کا نام نمایاں طور پر لیا جاتا ہے، جبکہ کرنل حسن خان عسکری جدوجہد کے اہم کرداروں میں شمار ہوتے ہیں۔
اس کامیابی میں گلگت اسکاؤٹس کے مقامی سپاہیوں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا تھا۔ وہ علاقے کے جغرافیے، پہاڑی راستوں اور دفاعی حالات سے بخوبی واقف تھے۔ ان کی عسکری مہارت اور مقامی قیادت نے اس بغاوت کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہاں ایک اہم تاریخی وضاحت ضروری ہے: یکم نومبر کا واقعہ بنیادی طور پر گلگت میں ڈوگرا انتظامیہ کے خاتمے اور عبوری حکومت کے قیام سے متعلق تھا۔ اسے پورے گلگت بلتستان کے تمام علاقوں کی بیک وقت آزادی قرار دینا درست نہیں۔ بلتستان میں اس وقت جنگ کا ایک الگ اور طویل مرحلہ شروع ہونا باقی تھا۔
بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کی گرفتاری اور صوبیدار میجر محمد بابر خان کا کردار
گلگت کی آزادی کی داستان میں بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کی گرفتاری ایک اہم واقعہ ہے۔ مقامی تاریخی روایت میں اس گرفتاری کے حوالے سے صوبیدار میجر محمد بابر خان کا نام بھی نمایاں طور پر لیا جاتا ہے۔
یہ واقعہ محض ایک فوجی افسر کی گرفتاری نہیں تھا بلکہ ڈوگرا انتظامیہ کے اقتدار کے خاتمے کی علامت بن گیا۔ ایک ایسا نظام جو طویل عرصے سے علاقے پر حکمرانی کررہا تھا، مقامی سپاہیوں کی بغاوت کے سامنے زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔
صوبیدار میجر محمد بابر خان جیسے مقامی کرداروں کا تذکرہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ تاریخ اکثر بڑے عہدوں اور معروف ناموں کو تو محفوظ کرلیتی ہے، لیکن ان اہلکاروں اور سپاہیوں کو فراموش کردیتی ہے جنہوں نے عملی طور پر میدان میں کردار ادا کیا۔
اس واقعے کی مکمل تاریخی ترتیب، گرفتاری کے مقام، وقت اور مختلف اہلکاروں کے کردار کی مزید دستاویزی تحقیق ضروری ہے، تاکہ مقامی روایات اور تحریری ریکارڈ کو یکجا کرکے ایک مستند تاریخی بیان مرتب کیا جاسکے۔
کرنل میرزا حسن خان: ایک سپاہی، ایک کردار اور ایک تاریخی گواہ
گلگت کی تحریکِ آزادی کا ذکر کرنل میرزا حسن خان کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ وہ اس دور کے اہم عسکری کرداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شخصیت صرف ایک فوجی افسر کی نہیں بلکہ اس عہد کی سیاسی اور عسکری تبدیلیوں کے ایک اہم گواہ کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔
کرنل میرزا حسن خان کی خودنوشت ’’شمشیر سے زنجیر تک‘‘ اس دور کے حالات سمجھنے کے لیے اہم ماخذ ہے۔ ایک خودنوشت ہونے کی حیثیت سے اس میں مصنف کے ذاتی مشاہدات، تجربات، سیاسی زاویۂ نظر اور واقعات کی اپنی تعبیر موجود ہے۔ اس لیے اس کتاب کا مطالعہ دیگر تاریخی دستاویزات اور محققین کی تحریروں کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔
تاریخ کی تحقیق میں کسی ایک کتاب کو حرفِ آخر سمجھنے کے بجائے مختلف ماخذوں کا تقابلی مطالعہ ضروری ہوتا ہے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس دور کے کرداروں کی اپنی تحریری شہادتیں ہماری تاریخ کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
گلگت کی آزادی کے بعد: پاکستان کے ساتھ انتظامی تعلق
گلگت میں ڈوگرا اقتدار کے خاتمے کے بعد عبوری حکومت کا قیام ایک اہم سیاسی مرحلہ تھا۔ لیکن یہ خطے کے مستقبل کا آخری فیصلہ نہیں تھا۔ نومبر 1947ء کے وسط میں پاکستان کے نمائندے نے گلگت میں انتظامی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اس کے بعد گلگت کا پاکستان کے ساتھ انتظامی تعلق قائم ہوا اور خطے کے سیاسی و انتظامی مستقبل کا ایک نیا دور شروع ہوا۔
اس مرحلے کو سمجھتے ہوئے تین باتوں میں فرق رکھنا ضروری ہے: پہلی، ڈوگرا اقتدار کے خلاف مقامی بغاوت؛ دوسری، عبوری حکومت کا قیام؛ اور تیسری، پاکستان کے نمائندے کی آمد اور انتظامی ذمہ داریوں کا سنبھالنا۔
ان واقعات کو ایک ہی دن یا ایک ہی فیصلے کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے ان کی الگ الگ تاریخی حیثیت کو تسلیم کرنا چاہیے۔
بلتستان کی جنگِ آزادی: ایک الگ اور طویل داستان
گلگت میں یکم نومبر 1947ء کو آزادی کی کامیابی کے بعد بلتستان کا محاذ بھی متحرک ہوا۔ لیکن یہاں حالات بالکل مختلف تھے۔
بلتستان میں ڈوگرا فوجی موجودگی، دشوار گزار جغرافیہ، سرد موسم اور محدود وسائل نے جنگ کو انتہائی مشکل بنادیا تھا۔ سکردو کی چھاؤنی ایک اہم عسکری مرکز تھی۔ اس پر کنٹرول حاصل کیے بغیر علاقے میں ڈوگرا فوجی طاقت کا خاتمہ آسان نہ تھا۔
1947ء کے اواخر اور 1948ء کے دوران سکردو کے گرد جنگی کارروائیاں جاری رہیں۔ سکردو کا محاصرہ اس پورے دور کا ایک دردناک اور فیصلہ کن باب ہے۔
محاصرے میں موجود فوجی دستوں کو رسد، کمک اور مواصلاتی رابطوں کے مسائل کا سامنا تھا۔ دوسری طرف مقامی مجاہدین دشوار گزار پہاڑی راستوں، شدید سردی اور محدود عسکری وسائل کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے تھے۔
یہ صرف سپاہیوں کی جنگ نہیں تھی۔ مقامی آبادی نے بھی اس جنگ کے اثرات برداشت کیے۔ کسی نے رسد پہنچانے میں مدد کی، کسی نے راستوں کی رہنمائی کی، کسی نے اپنے گھر اور وسائل مجاہدین کے لیے پیش کیے، اور کسی خاندان نے اپنے عزیزوں کو میدانِ جنگ میں کھو دیا۔
بلتستان کی آزادی کی داستان میں ان گمنام افراد کا ذکر بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا معروف عسکری شخصیات کا۔ کیونکہ تاریخ صرف کمانڈروں کے فیصلوں سے نہیں بنتی، بلکہ عام لوگوں کی قربانیوں سے بھی تشکیل پاتی ہے۔
14 اگست 1948ء: سکردو چھاؤنی میں ہتھیار ڈالنے کا تاریخی واقعہ
بلتستان کی تاریخِ آزادی میں 14 اگست 1948ء ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ مقامی تاریخی روایت اور بلتستان میں یومِ آزادی منانے کی بنیاد اس واقعے سے وابستہ ہے کہ اس روز سکردو چھاؤنی میں محاصرے میں موجود ڈوگرا فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔ یہ وہ لمحہ تھا جسے بلتستان کے عوام ڈوگرا فوجی اقتدار کے خاتمے اور آزادی کی کامیابی کی علامت کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ طویل محاصرے، عسکری مزاحمت، سخت موسمی حالات اور مسلسل جدوجہد کے بعد یہ دن ایک تاریخی سنگِ میل بن گیا۔
اسی لیے بلتستان میں ہر سال 14 اگست کو یومِ آزادی منایا جاتا ہے۔
یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے: پاکستان 14 اگست 1947ء کو آزاد ہوا تھا، جبکہ بلتستان میں یومِ آزادی 14 اگست 1948ء کے سکردو چھاؤنی کے واقعے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ دونوں کی تاریخ اور مہینہ ایک ہیں، مگر سال اور تاریخی پس منظر الگ ہیں۔
اس مناسبت کو محض اتفاق کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ بلتستان کے عوام کے لیے ایک گہری تاریخی اور قومی معنویت رکھتی ہے۔ پاکستان کی آزادی کے ایک سال بعد اسی تاریخ کو بلتستان میں آزادی کی جدوجہد کا ایک فیصلہ کن مرحلہ مکمل ہوا۔
تاہم اس واقعے کی عسکری تفصیلات، ہتھیار ڈالنے کی کارروائی، فوجی دستوں کی تعداد، کمانڈروں کے نام اور اس کے بعد کے انتظامی حالات کو اصل فوجی ریکارڈ اور عینی شاہدین کی شہادتوں سے مزید مرتب کرنا ضروری ہے۔ تاریخ کی عظمت اسی میں ہے کہ اس کے واقعات کو تحقیق کے ساتھ محفوظ کیا جائے۔
مجاہدینِ بلتستان: آزادی کے گمنام معمار
بلتستان کی آزادی کی تاریخ چند ناموں تک محدود نہیں۔ اس جدوجہد میں سکردو، شگر، خپلو، کھرمنگ اور دیگر علاقوں کے مقامی افراد نے مختلف حیثیتوں میں کردار ادا کیا۔ ان میں باقاعدہ فوجی اہلکار بھی تھے، مقامی رضاکار بھی، راستوں سے واقف رہنما بھی اور ایسے عام شہری بھی جنہوں نے اپنے وسائل اور جانوں کو خطرے میں ڈال کر آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا۔
ان مجاہدین میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کے نام آج بھی مقامی خاندانوں اور بزرگوں کی یادداشتوں میں محفوظ ہیں، لیکن ان کی خدمات تحریری تاریخ کا حصہ نہیں بن سکیں۔ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ان ناموں کو تلاش کریں، ان کے خاندانوں سے رابطہ کریں، ان کے حالاتِ زندگی قلم بند کریں اور ان کی قربانیوں کو آنے والی نسلوں تک پہنچائیں۔
خصوصاً صوبیدار میجر محمد بابر خان اور دیگر مقامی عسکری کرداروں کے حوالے سے مستند معلومات جمع کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کی گرفتاری اور اس واقعے میں شریک افراد کے کردار پر بھی مزید تحقیق ہونی چاہیے۔
آزادی کے بعد گلگت بلتستان: سیاسی اور آئینی سفر
آزادی کی جدوجہد کے بعد گلگت بلتستان کے عوام نے ایک نئے سیاسی و انتظامی دور میں قدم رکھا۔ لیکن آزادی کے بعد بھی اس خطے کی آئینی حیثیت کا سوال مکمل طور پر حل نہ ہوسکا۔ 1970ء میں شمالی علاقہ جات کا انتظامی ڈھانچہ قائم کیا گیا۔ 2009ء کے اصلاحاتی پیکیج کے ذریعے خطے کو گلگت بلتستان کا نام دیا گیا اور گورنر، وزیراعلیٰ، قانون ساز اسمبلی اور گلگت بلتستان کونسل جیسے ادارے وجود میں آئے۔
بعد ازاں 2018ء کے اصلاحاتی حکم نامے کے ذریعے انتظامی اختیارات اور حکومتی ڈھانچے میں مزید تبدیلیاں کی گئیں۔
تاہم ان اصلاحات کے باوجود گلگت بلتستان کو پاکستان کے دیگر صوبوں جیسی مکمل آئینی و پارلیمانی حیثیت حاصل نہیں ہوسکی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں براہِ راست نمائندگی، وسائل پر اختیار، مالی خودمختاری اور قومی فیصلہ سازی میں مؤثر شرکت جیسے سوالات آج بھی زیرِ بحث ہیں۔
اس خطے کی آئینی حیثیت مسئلہ کشمیر کے تاریخی اور بین الاقوامی تناظر سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ لیکن اس پیچیدہ پس منظر کے باوجود عوام کے بنیادی سیاسی، معاشی اور جمہوری حقوق کو غیر معینہ مدت تک مؤخر نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جس خطے کے لوگوں نے اپنی آزادی کے لیے قربانیاں دیں، جس کے عوام نے سرحدوں کے دفاع اور قومی سلامتی میں اہم کردار ادا کیا، انہیں قومی فیصلہ سازی میں مکمل اور مؤثر نمائندگی کب حاصل ہوگی؟
تاریخ کا تحفظ: گمنام مجاہدین کو نام اور مقام دینا ہوگا
گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بہت سے اہم واقعات اور شخصیات کے بارے میں معلومات زبانی روایات، خاندانی یادداشتوں اور غیر مدون تحریروں میں بکھری ہوئی ہیں۔
اگر ہم نے انہیں بروقت محفوظ نہ کیا تو آنے والی نسلیں اپنے اسلاف کی قربانیوں سے محروم رہ جائیں گی۔
اس لیے ضروری ہے کہ یکم نومبر 1947ء سے 14 اگست 1948ء تک کے واقعات پر ایک جامع تحقیقی منصوبہ شروع کیا جائے۔
اس منصوبے میں درج ذیل امور کو خصوصی اہمیت دی جائے:
گلگت کی یکم نومبر 1947ء کی بغاوت اور عبوری حکومت کی تفصیلات۔
بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کی گرفتاری اور صوبیدار میجر محمد بابر خان سمیت متعلقہ کرداروں کی تحقیق۔
کرنل میرزا حسن خان کی عسکری خدمات اور خودنوشت ’’شمشیر سے زنجیر تک‘‘ کا مطالعہ۔ گلگت اسکاؤٹس کے مقامی سپاہیوں اور دیگر مجاہدین کے حالاتِ زندگی۔
بلتستان میں ڈوگرا فوجی اقتدار کے خاتمے کی جدوجہد۔
سکردو کے محاصرے اور 14 اگست 1948ء کو سکردو چھاؤنی میں ہتھیار ڈالنے کے واقعے کی تفصیلات۔
شگر، خپلو، کھرمنگ اور دیگر علاقوں کے مقامی مجاہدین کی قربانیاں۔
عینی شاہدین کے انٹرویوز، پرانی تصاویر، خطوط، فوجی ریکارڈ اور سرکاری دستاویزات۔ آزادی کے بعد گلگت بلتستان کے سیاسی، انتظامی اور آئینی سفر کا تحقیقی جائزہ۔ اس مقصد کے لیے مقامی مؤرخین، محققین، اساتذہ، صحافیوں، مجاہدین کے خاندانوں اور نوجوان نسل کو ایک مشترکہ تحقیقی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ کسی ایک فرد، خاندان یا ادارے کی ملکیت نہیں ہوتی۔ یہ پوری قوم کی امانت ہوتی ہے۔
آزادی کا حقیقی مفہوم اور ہماری اجتماعی ذمہ داری
یکم نومبر ہمیں گلگت کے ان مجاہدین کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے ڈوگرا اقتدار کے خلاف جدوجہد کی۔ 14 اگست ہمیں بلتستان کے ان بہادر سپوتوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے طویل محاصرے اور سخت جنگی حالات میں آزادی کی جدوجہد جاری رکھی۔
یہ دونوں تاریخیں ہمیں بتاتی ہیں کہ آزادی ایک مسلسل ذمہ داری کا نام ہے۔ اس کا مقصد صرف ایک حکمران کی جگہ دوسرے حکمران کا آنا نہیں، بلکہ عوام کی عزت، خودمختاری، سیاسی اختیار، معاشی خوشحالی اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔
آج جب ہم یومِ آزادی گلگت بلتستان مناتے ہیں تو ہمیں اپنے ان تمام اسلاف کو یاد کرنا چاہیے جنہوں نے اپنی سرزمین کے لیے قربانیاں دیں۔ گلگت کے مجاہدین ہوں یا بلتستان کے بہادر سپوت، معروف عسکری رہنما ہوں یا گمنام رضاکار، ان سب کی خدمات ہماری مشترکہ تاریخ کا سرمایہ ہیں۔
ہمیں اپنے اختلافات سے بالاتر ہوکر اس خطے کی اجتماعی شناخت، وحدت اور مستقبل کے لیے سوچنا ہوگا۔ قدرتی وسائل پر منصفانہ اختیار، بااختیار مقامی حکومت، قومی فیصلہ سازی میں مؤثر نمائندگی، بہتر تعلیمی و طبی سہولیات اور روزگار کے مواقع گلگت بلتستان کے عوام کا بنیادی حق ہیں۔
ہماری نئی نسل کو یہ جاننا چاہیے کہ یکم نومبر 1947ء کو گلگت میں کیا ہوا، بلتستان میں جنگ کس طرح آگے بڑھی، سکردو کا محاصرہ کن حالات میں ہوا اور 14 اگست 1948ء کو سکردو چھاؤنی میں ہتھیار ڈالنے کا واقعہ کیوں ہماری تاریخ میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
آزادی کے ان دونوں تاریخی مراحل کو سمجھنا ہی اپنے ماضی سے انصاف کرنے کا راستہ ہے۔
آئیے، ہم اپنی تاریخ کو محفوظ کریں، اپنے محسنوں کو یاد رکھیں، اپنے گمنام مجاہدین کو قومی تاریخ میں جگہ دیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایسی مستند دستاویزات چھوڑیں جن پر وہ فخر کرسکیں۔
یکم نومبر گلگت کی آزادی کی تاریخی صبح ہے، اور 14 اگست 1948ء بلتستان کی آزادی کی جدوجہد کا یادگار دن۔ دونوں تاریخیں ہماری اجتماعی قومی یادداشت کا حصہ ہیں۔
شہداء، مجاہدین اور قومی محسنوں کو سلام!










آپ کا تبصرہ